پیر، 9 جولائی، 2018

کیمیکلز سپرے سے ملا چھٹکارا

اسلامُ علیکم کسان بھائی سب کیسے ہیں امید ہے سب خیریت سے ہوں گے ہنگ کا بتایا گیا فارمولا پاکستان سمیٹ انڈیا میں فارمرز نے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے کچھ دوست ہیں انڈیا کے پنجاب سے جو ہمارے وٹس ایپ گروپس میں بھی موجود ہیں۔

آج ایک اور ریزلٹ شیر کرنے لگا ہوں کسان گھر فیس بک پر اور باقی سب گروپس میں ہنگ کا استعمال تو بار بار بتایا جا چکا ہے مگر ایک بار پھر بتانے لگا ہوں کوئی ایسی سائنس نہیں جو سمجھ میں نا آسکے دوستو ہنگ تھوڑی ٹھوس ہوتی ہے اس کو تھوڑا کوٹ لیں اور ابلتے پانی میں اسے حل کر لیں مینے کیا کیاتھا کہ ایک تولہ ہنگ کو کوٹ کر دو لیٹر پانی میں ابال لیا جب پانی ایک لیٹر رہ گیا تو اس ٹھنڈا کر کے ایک لیٹر والی بوتل میں بھر کےرکھ لیا یہ ساری زندگی خراب نہیں ہوتی۔


آج ہی ہمارے ایک گروپ ممبر اشفاق حسین گازر صاحب نے ہنگ کے نتائج شئیر کئے جو انہوں نے کسان گھر کے بتائے گئے طریقہ کار سے اپنے ترشاوہ پھلدار پودوں پر سپرے کی اور تمام قسم کی سنڈیوں کیڑوں وغیرہ سے فصل صاف ہو گئی۔

ایک تولہ ہنگ سے ایک لیٹر پانی بنا کر اسے 100 لیٹر پانی میں پر ایکڑ کے حساب سے سپرے کریں اور مہنگی زہروں سے جان چھوڑائیں میزد کرنجوہ کی افادیت پر پوسٹ لکھ کر شئیر کر دوں گا جلد ہی آپ لوگ وہ پڑھ پائیں گے اس سے بھی بہت سے کیڑے کنڑرول ہوتے ہیں،نیم اور آئل کا سپرےبہت اچھے نتائج دے رہا ہے اور بہت کچھ جو جلد آپ سب کو یہاں پڑھنے کو ملے گا 

جو نتائج شئیر کئے گئے ان کی تصاویر میں نیچے پوسٹ کر رہا ہوں



ایک کام ضرور کیا کریں پوسٹ کے نیچے کامنٹ باکس ہے وہاں اپنے خیالات سے ضرور آگاہ کیا کریں شکریہ

آگے بڑھو کسان

منجانب:کسان گھر

اتوار، 8 جولائی، 2018

ترشاوہ پھلدار پودوں میں کیا مسئلہ ہے؟حل نہیں ہو پا رہا

بِسمِ اللّہِ الرّحمٰنِ الرّحِیم 
السلامُ علیکم! 

کسان گھر وٹس ایپ گروپ میں آج ایک دوست نے چند تصاویر شئیر کیں جو نیچے شئیر کرنے لگا ہوں


جب یہ تصاوہر اپلوڈ کی گئیں تو بتایا گیا کہ بہت سے جتن کر چکا ہوں مگر کوئی فرق نہیں پڑ رہا کچھ دوستوں کی رائے تھی کہ یہ
1۔نائٹروجن کی کمی ہو سکتی ہے
2۔زنک کی کمی ہو سکتی ہے
3۔میگنیز کی کمی ہو سکتی ہے
4۔میگنیشیم کی کمی ہو سکتی ہے

ایسی صورتحال بنی ہوئی تھی جس میں مزید بحث نہیں ہو پا رہی تھی اس پر پھر مینے اپنے تجربے سے ڈیفیشیسی کے بنیادی اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے  ان چار سوالوں کے جواب دئے اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ یہ ۔۔۔۔۔ چلیں آخر میں بتاٰؤں گا۔

1۔اگر آپ تصویر نمبر تین کو دیکھیں تو آپ کو پیچھے سے پودوے نظر آرہے ہوں گے جن کے پرانے پتے بلکل سبز ہیں جو ظاہر کر رہے ہیں کہ فصل کو نائٹروجن کی کمی نہیں ہے اگر نائتروجن کی کمی ہوتی تو پرانے پتے پیلے ہوتے۔ کیونکہ نائٹروجن کی پودوں میں حرکت بہت تیز ہے اس لئے اس کی کمی نئے پتوں میں نہیں آتی۔

2۔اس پے پتوں پر غور کریں تو اس کے نئے پتوں کے درمیان والی جگہ اور اس کے ساتھ والی رگیں سبز سبز نظر آرہی ہیں جو واضع بتا رہی ہیں کہ ان میں زنک کی کمی ہے کیوںکہ زنک کی پودوں میں حرکت بہت کم ہے اس لئے اس کی کمی نئے پتوں میں آتی ہے۔

3۔اب تیسری باری مینگنیز کی آگئی تو اس کی کمی بھی پودوں کے نئے پتوں میں آتی ہے اس لئے سوال پیدا ہو گیا کہ یہ زنک سے کیسے مختلف ہے دیکھا گیا کہ زنک سے اندر والی رگے نظر آتی ہیں اور مینگنیز سے پتے کی باہر والی رگیں نظر آتی ہیں۔

4۔جب باری میگنیشیم کی آئی تو غذائی اجزاء کی کمی کے بنیادی اصولوں کو دیکھا گیا تو ابتداء میں ہی یہ بات واضح ہو گئی کہ پودوں کے نئے پتوں میں میگنیشیم کی کمی آتی ہی نہیں میگنیشیم کی پودوں میں حرکت تیز ہے اس لئے اس کی کمی پودوں کے پرانے پتوں میں آتی ہے۔

حل: 200گرام زنک 100 لیٹر پانی میں ملا کر سپرے کرنے سے اس مسئلے پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔


اگر آپ اس کاوش کو درست سمجھتے ہیں تو نیچے اپنا تبصرہ ضرور کامنٹس میں درج کرتے جائیں۔

منجانب:کسان گھر

ہفتہ، 7 جولائی، 2018

ایرانی ہنگ یا ہیرا ہنگ سے ہوئی کاشتکاری آسان

ایرانی ہنگ یا ہیرا ہنگ نے کر دیا کاشکاری کرنا آسان




دوستومیں تحقیق اور جستجوہو تو منزلیں مل ہی جاتی ہیں کسان گھر کم و بیش دو سال سے کسانوں کیلے آسانیاں پیدا کر رہا ہے اور اس فورم پر مزید مسائل کا حل محفوظ کر کے کسانوں کیلے آسانیاں پیدا کر رہا ہے۔

جب کسان گھر میں پہلا تجربہ مینے ایرانی ہنگ سے سنڈوں کے کنٹرول کا کیا تو میرے بڑے بھائی اور والد صاحب نے کہا کے اس دس گرام ہنگ سے کیسے سنڈیاں مریں گی مینے کہا ابو جی کل تک دیکھ لیں اگر نا مریں تو ایمامیکٹن کا یا کسی اور سپرے کا چھڑکاؤ کر دریں گے تو والد صاحب نے کہا ٹھیک ہے۔

مینے ایک تولہ ایرانی ہنگ جس کی چند تصاویر بھی لگا رہا ہوں اور سنڈیوں کی تصاویر بھی پنسار سٹور سے لی اور اسے دو لیٹر پانی میں ابالنا شروع کر دیا بو سخت تھی ناک پر کپڑا لے لیا تھوڑی ٹھوس تھی اسے ابالنے سے پہلے تھوڑا کوٹ لیا پھر ابلے پانی میں ڈال دیا۔

پانی میں ہنگ کو ابالتا رہا جب ایک لیٹر پانی رہ گیا تو اسے آگ سے اتار کر ٹھنڈا ہونے کیلے رکھ دیا جیسے ہی پانی ڈھنڈا ہوا مینے اس ےایک لیٹر والی بوتل میں ڈال لیا اور ڈھکن دے کر رکھ دیا دوسرے دن شام کا وقت تھا پودینہ مینے کوئی آدھا ایکڑ لگایا ہوا ہے اس میں شدید قسم کی سنڈیاں تھیں دو ٹینکیاں بیس بیس لیٹر والی لگا کر والد صاحب اور ابڑے بھائی کی باتیں سن کر گھر چلا آیا یاد رہے جو ٹرائل ہوتے ہیں میں خود کرتاہوں۔

جب ایک دن گزر گیا تو پودینہ جا کے دیکھا تو سنڈیاں کچھ جل چکی تھیں اور کچھ نیچے گری پڑی تھیں اور کچھ میں تھوڑی تھوڑی حرکت تھی مینے ایک تولہ 100 لیٹر پانی میں ملا کر استعمال کیا مطلب۔ بیس لیٹر والی ٹینکی میں 200 ایم ایل یہ سردیوں کی بات ہے۔


اب تو پورا پاکستا ن اسے دیمک،سنڈیوں،اڑنے والے کیڑوں،فنگس جیسے مسائل تمام پر اپلا ئی کر کے فائدہ اٹھا رہا ہے۔

اس پوسٹ کے مطعلق کوئی بھی سوال مزید پوچھنا ہے تو اس پوسٹ کے نیچے تبصرہ لکھ ہوا ہے اس پر کلک کریں اور نیچے دی گئی خالی جگہ پر اپنا سوال پوچھیں بارہ گھنتوں کے اندر جواب پوسٹ کر دیا جائے گا۔


آگے بڑھو کسان

منجانب:کسان گھر 

جمعہ، 6 جولائی، 2018

بارش کے بعد کپاس میں آنے والے مسائل

بِسمِ اللّہِ الرّحمٰنِ الرّحِیم

السلامُ علیکم!

پاکستان میں ہونے والی شدید بارشوں کی وجہ سے کسان کی باقی فصلوں کے ساتھ ساتھ کپاس کی فصل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

پھپھوندی: پھپھوندی کی بہت سی بیماریاں جنم لیں گی جن کی علامات پتوں پر واضح ہوں گی دھبے نظر آئیں گے جو پتوں کو بدشکل کر دیں گے

حل:کسان اس مسئلے کے آنے کا انتظار کئے بغیر اپنی فصل پر کاپر آکسی کلورائیڈ،کاپر سلفیٹ یا کاپر ہائیڈرو آکسائیڈ  تین گرام پر لیٹر کے حساب سے سپرے کریں تاکے ابتدائی مراحل میں ہی اس کے جراثیم کو پھیلنے سے روکا جا سکے

جس کے کنٹرول نا کرنے کی وجہ سے معاشی حد تک نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

بوران،نائٹروجن،سلفر:

ہم زمین میں جتنے بھی غذائی اجزاء ڈالتے ہیں ان میں سب سے زیادہ تیزی سے زمین کی نچلی تہہ میں بہنے والے اجزاء بوران،نائٹروجن اور سلفر ہیں۔۔۔

کسان فصل کا معائنہ کریں اور فصل کے نئے اور پرانے پتوں کا باغور مشاہدہ کریں اگر فصل کے پرانے پتے پیلے ہو رہے ہوں تو نائٹروجن کا دو کلو پر ایکڑ کے حساب سے سپرے کریں۔۔۔

سلفر درمیانے اجزاء میں آتا ہے اس کی کمی پودے کے درمیان والے پتوں میں فصل کے پیلا پتوں سے ظاہر ہوتی ہے اگر ایسی صورتحال ہے تو آپ سلفر دو سو گرام پر ایکڑ کے حساب سے سپرے کریں۔۔۔۔

بوران کی علامات پودے کے بلکل اوپر والے حصے جہاں سے نئی شاخیں نکل رہی ہوتی ہیں سے پر ظاہر ہوتی ہیں پتے پیلے ہونا شروع ہو جاتے ہیں اگر ایسی صورتحال ہو تو ایک سو گرام بوران پر ایکڑ کے حساب سے سپرے کریں۔

کیا ان تینوں اجزاء کو مکس کر کے سپرے کیا جا سکتا ہے؟

یوریا،بوران،سلفر تینوں کو مکس کر کے اسی ڈوز سے اکٹھا سپرے بھی کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔

زمینی بیماری: ہماری زمین کے اندربہت سے جراثیم ایسے ہیں جو زمین میں نمی بڑھتے ہی زندہ ہو جاتے ہیں اس لئے جیسے ہی پہلا پانی لگائیں بارش کے بعد تو دو کلو کاپر سلفیٹ پر ایکڑ کے حساب سے فلڈ کریں تاکے زمین کے جراثیمی بیکٹیریا اور فنگس سے بچا جا سکے۔

دیمک:جیسے ہی وتر آئے گا کچھ کاشتکاروں کی فصل میں جڑوں میں فنگس پیدا ہو جائے گی جس کی وجہ سے گلی سڑی جڑوں کو دیمک کھانے آجائے گی اس لئے مرجھانے والے پودوں کی جڑوں کا معائنہ کرتے رہیں فنگس ہو تو دو کلو کاپر سلفیٹ پر ایکڑ فلڈ کریں

اور اگر دیمک ہو تو ایک لیٹر امیڈا کلوپرڈ جو لیکویڈ میں ملتا ہے پر ایکڑ فلڈ کریں یا کلوروپائیریفاس ایک لیٹر فلڈ کریں یا فائپرونل کا استعمال کریں۔

مزید دیسی حل کیلے بیس گرام ایرانی ہنگ پنسار سٹور سے لیں اور اسے دو لیٹر پانی میں ابال کے حل کر لیں اور ڈرم میں پانی کے ساتھ ملا کر فلڈ کر دیں۔۔کھاد دے رہے ہیں تو کسی بھی کھاد کے ساتھ ملا کر بھی فلڈ کر سکتے ہیں۔

پوسٹ کے نیچے آپ اس پوسٹ پر تبصرہ کر کے اپنے مزید مسائل پوچھ سکتے ہیں جن کا جواب ایک دن کے اندر دے دیا جاتا ہے۔۔۔

زیادہ سے زیادہ کسانوں تک اس پوسٹ کو شئیر کریں تاکے ہم زیادہ سے زیدہ کسانوں کی رہنمائی کرنے میں کامیاب ہو سکیں

آگے بڑھو کسان

منجانب:کسان گھر

بدھ، 4 جولائی، 2018

بارشیں اور کسانوں کے کرنے کے کام

زیادہ بارش کسانوں کیلے کیاکیا مسائل پیدا کر سکتی ہے؟

بِسمِ اللّہِ الرحمٰنِ الرّحِیم

السلامُ علیکم!

بارش جیسے ہم رحمت کہتے ہیں اگر زیادہ آجائے تو کسانوں کیلے بہت سے مسائل پیدا کرتی ہے۔

جب بہت زیادہ بارش ہوتی ہے تو پودوں کی جڑیں پانی میں ڈوب جاتی ہیں جس کی وجہ سے ممکنہ طور پر کسان کو تباہ کن نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کیونکہ پانی میں ڈوبے ہوئے پودے جلدی مرجھا جاتے ہیں اور جلد مر جاتے ہیں وہ اس لئے کہ ایسے پودوں کے پتوں سے ماحول میں موجود گیسوں کو تبادلہ نہیں ہو پاتا خاص طور پر کاربن ڈائی آکسائیڈ اور آکسیجن گیس کا۔ پودے کی سانس بند ہونا شروع ہو جاتی ہے اور پودا مزید بڑھ نہیں سکتا۔

اور مسلسل بھیگی ہوئی زمین کا پودے کی جڑوں پر بہت زیادہ منفی اثر پڑتا ہے جس کی وجہ سے پودے زمین سے خوراک حاصل نہیں کرپاتے۔

اس طرح پودوں کی جڑوں سے بھی گیسوں کا تبادلہ نہیں ہو پاتا جڑ کے خلیات گلنا شروع ہو جاتے ہیں اور پودے مر جاتے ہیں۔

اگر تو پوری جڑ متاثر ہو گئ تو پورا پودا مرجھا جائے گا اور مکمل طور پر نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا

اور اگر پودے کی جڑ کچھ متاثر ہوگئی ہے اور کچھ بچ گئی ہے تو پیداوار میں کافی حد تک کمی ہو سکتی ہے۔

کسان گھر کے کاشتکار اگر زیادہ بارش آجائے اور چوبیس گھنٹے تک پانی نا نکالا جائے تو فصل کی بڑھوتری رک جاتی ہے اور  48گھنٹے مسلسل کھڑا رہنے سے فصل مرجھا جاتی ہے اور پودے مر جاتے ہیں۔

اور فصل میں زیادہ دیر تک نمی رہنے سے ہمارا بنیادی غذائی اجزاء نائٹروجن زمین کی نچلی تہہ میں بہہ جاتا ہے اور ڈی نائٹرویفیکیشن کے عمل کے ہونے سے کچھ حصہ فضاء میں نائٹروجن گیس بن کر اڑ جاتا ہے۔

اسی طرح بہت سے اور بھی غذائی اجزاء لیچ ڈاؤن ہو جاتے ہیں اس لئے انتظار کئے بغیر کے وتر آنے پر غذائی اجزاء ڈالیں گے سپرے کے ذرئعے کمی کو پورا کریں۔

جڑیبوٹیوں کے ساتھ ساتھ رس چوسنے والے کیڑو اور کترنے والے کیڑوں کا حملہ بھی شروع ہو جاتا ہے اس لئے فصل کا روزانہ کی بنیاد پر معائنہ کرتے رہیں اور جڑیبوٹی مار زہروں،پھپھوندی کش زہروں اور کیڑے مار ادویات کا بروقت استعمال کریں۔

اگر آپ زمین کو خوشک ہونے کے بعد ان مسائل کوحل کرنے کا سوچتے رہے تو یقیناً فصل کا معاشی نقصان ہو سکتا ہے اس لئے دیر کئے بغیر کنٹرول کریں۔

موسم میں نمی اور درجہ حرارت کے زیادہ ہونے سے فنگس کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں فنجیسائیڈ کا استعمال تو کرنا ہی ہے ساتھ فصل سے گلے سڑے پودے اور زیادہ متاثر پودے ضرور نکال دیں کے وہ زیادہ بیماریاں پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔

سبز تیلا،لشکری سنڈی اور امریکن سنڈی کا حملہ عموماً ایسے ماحول میں بڑھ جاتا ہے اس پر نظر رکھیں اور جہاں پر نارمل بارشیں ہوتی ہیں وہاں پر پودوں کی گروتھ اکثر بڑھنا شروع ہو جاتی ہے اور پودے پھل کی طرف توجہ نہیں دے پاتے۔

اس لئے اگر فصل کی زیادہ گروتھ کو روکنا ہو تو ایک زہر جو کسان استعمال کرتے ہیں جس کا نام ’’میپی کوآٹ‘‘ اس کا سپرے کیا جاتا ہے جس سے فصل پھل پر توجہ دینی شروع کر دیتی ہے۔

اپنے مسائل کسان گھر میں بھیجنے کیلے
www.facebook.com/groups/kisanghar
کو joinکریں اور مزید معلومات کیلے۔
www.kissangharr.blogspot.com
کو visitکریں۔

آگے بڑھو کسان

منجانب:کسان گھر

کاپر سلفیٹ یا نیلا تھوتھا کی زراعت میں اہمیت

کاپر سلفیٹ یا نیلا تھوتھا کی زراعت میں اہمیت

مارکیٹ میں موجود اقسام اور اصلی نقلی کی پہچان.
کاپر سلفیٹ یا نیلا تھوتھا کو کسان کا امرت دھارا کہا جاتا ہے کیونکہ یہ پودوں کا خوراکی جز بھی ہے بہترین فنگسائیڈ بھی ہے اور بیکٹیریا سے فصلوں میں پیدا ہونے والے مسائل کے کنٹرول میں بھی اپنی مثال آپ ہے ان مسائل کے خلاف یہ ایک اچھا اور سستا ٹانک ہے, استعمال میں مقدار اور طریقہ کار مختلف وجوہات و حالات میں محتلف ہے لہذا استعمال ماہرین کی سفارشات کے مطابق کیا جائے.

نیلا تھوتھا چار کوالٹیوں میں مارکیٹ میں موجود ہے, ایک امپورٹڈ جو تین ساڑھے تین اور چار سو روپے کلو بیچا جاتا ہے, دوسرا لوکل جو ایک سو پچاس سے ایک سو اسی روپے تک مارکیٹ میں بیچا جاتا ہے, تیسری قسم وہ کچرا نما نیلا تھوتھا ہے جو جب کاپر کو سلفیورک ایسڈ سے ری ایکٹ کرایا جاتا ہے تو دوسرے نمبر پر بنتا ہے اس میں سلفیورک ایسڈ زیادہ ہوتا ہے اور اسی وجہ سے وزن بھی کچھ زیادہ بنتا ہے, یہ ایک سو بیس سے لے کر ایک سو پچاس تک بیچا جاتا ہے, جہاں کاپر کی تاریں بنتی ہیں وہاں سے یہ اس سے بھی کچھ سستا مل سکتا ہے, چوتھی قسم ایسی ہے کہ جس میں پھٹکڑی اور نیلا رنگ ملایا جاتا ہے یہ دو نمبر نیلا تھوتھا ہوتا ہے, اگر ملاوٹ شدہ نہ ہو تو لوکل اور امپورٹڈ کے کام میں کوئی خاص فرق نہیں, دونوں پانی میں حل پزیر ہیں, ایک نمبر نیلے کی پہچان کے لئے سب سے بہتر عمل تو یہ ہے کہ پنجاب کے اکثر اضلاع میں گورنمنٹ لیبارٹریز موجود ہیں جہاں تقریبا ایک سو روپے فیس دے کر آپ پرسنٹیج معلوم کر سکتے ہیں, یہ سب سے بہتر آپشن ہے اپنے ڈیلرز سے تمام کھادیں خریدتے وقت کبھی لیب سے انکی چیکنگ کرا لیا کریں, کبھی ایسا ممکن نہ ہو تو کاپر سلفیٹ کی اصلیت کی نشانی یہ ہے کہ اس کو پانی میں حل کر کے اس میں لوہے کا راڈ رکھا جائے تو وہ چند منٹوں میں زنگ آلود ہو جاتا ہے, لیکن چونکہ ملاوٹ شدہ نیلا تھوتھا بھی مکمل پھٹکڑی کا نہیں ہوتا بلکہ اصلی میں پھٹکڑی ملائی جاتی ہے اس وجہ سے ملاوٹ شدہ سے بھی لوھے کو زنگ لگتا ہے لیکن اصلی سے کم, دو چار قابل اعتماد جگہوں سے لیا جائے اور برابر مقدار میں پانی میں گھول کر برابر ٹائم کے لیے اس میں لوھا رکھا جائے ایک منٹ کے بعد لوہے کو نکال کر دیکھا جائے جس پر زنگ زیادہ ہے وہ اصلی, اسکا سیمپل محفوظ رکھا جائے اور خریدتے وقت اسکا موازنہ کیا جائےاور چیکنگ پر اگر مسئلہ محسوس ہو تو دوکاندار کو شکایت لگا کر مزید بہتر کی تلاش کی جائے.

اللہ کریم آپکو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے اور زندگی میں آپ سب کو اعتماد کا نشان سمجھا جائے.
دعا گو محمد اسلم میکن.

سبز کھاد کی کاشت اور اہمیت

سبز کھاس کی کاشت اور اہمیت
1۔ ہم پہلے دو دو فصلیں سال میں زمین سے لیا کرتے تھے اب تین سے چار فصلیں  تک اٹھا رہے ہیں جس سے زمین بہت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔
2۔ زرعی ماہرین کے مطابق زیادہ فصلیں لگنے کی وجہ سے زیادہ کیمیکلز کھادیں استعمال ہو رہی ہیں اور ایک وقت ایسا آئے گا کے زمینیں بہت کم پیداوار دینا شروع کر دیں گی۔
3۔اس مسئلے کا ایک بہترین حل ماہرین کے مطابق یہ ہے کے 1/3 حصہ نائٹروجن کا آرگینک میٹر سے دیا جائے اور ایسا کرنا ضروری ہے۔
4۔گوبر اور کمپوزٹ ڈالنا ہر فارمر کے بس میں نہیں ہے۔
5۔ سبز کھاد کے حصول کیلئے سب سے بہترین فصل
1۔ لوبیا کی
2۔جنتر کی
6۔ بیج کوئی بھی قسم ہو جھاڑ اچھا ہونا چاہیے اور 40 سے 45 دن بعد اس فصل لو تنے سخت ہونے سے پہلے اور پھول نکلنے سے پہلے زمین میں مکس کر دیں وتر کم ہو تو پانی لگا دیں۔
7۔ 25 سے 30 کلو جنتر ایک ایکڑھ میں بیج استعمال کریں۔
8۔نائٹروجن ۔فاسفورس اور پوٹاش مناسب مقدار میں ڈالیں نائٹروجن فصل کا بائیو ماس بڑھانے میں مدد دے گی اور پوٹاش اور فاسفورس جب فصل روٹر ویٹر ہو گی تو  اس کو زمین میں گلنے سڑنے کا کام کرے گی۔
9۔اس سے کاربن اور نائٹروجن کے ساتھ ساتھ بہت سے نیوٹرینٹ زمین میں دب جائیں گے اور زمین کی زرخیزی قائم رہے گی ۔

آگے بڑھو کسان

منجانب:کسان گھر